Friday, June 25, 2010

چین کا پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلان...

چین کا پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان.... امریکی مفادات کی جنگ سے خلاصی ہی ہمارے مفاد میں ہے

PST 07:00 am
چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے تحفظات کے باوجود پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 650 میگاواٹ نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کریگا‘ اس سلسلہ میں چین کی جانب سے گزشتہ روز نیوزی لینڈ میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے اجلاس میں باقاعدہ طور پر آگاہ بھی کردیا گیا اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکہ خود بھارت سے اس نوعیت کا ایٹمی معاہدہ کر چکا ہے‘ اس لئے وہ چین پر دبائو نہیں ڈال سکتا۔ ایک بھارتی اخبار کے بقول چین کی آرمڈ کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ ایسوسی ایشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل زی وی کوانگ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ چین پاکستان کو سول نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سلسلہ میں تعاون فراہم کریگا اور دو ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر کیلئے پاکستان کی مالی معاونت بھی کی جائیگی‘ کیونکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ امریکہ تو اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے‘ جبکہ اس جنگ میں دیگر 42 اتحادی ممالک کی نسبت پاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ دوسری جانب بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پاک چین جوہری تعاون کے معاہدے کو ناممکن بنایا جائے‘ اس سلسلہ میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اپنے ہم منصب کینیڈین وزیراعظم سے ملاقات کرکے کینیڈا کو پاک چین معاہدے کی مخالفت پر راضی کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ یورپی یونین نے پاکستان چین نیوکلیئر ڈیل پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کیلئے کسی بھی ڈیل یا معاہدے کی مخالف نہیں تاہم پاکستان چین معاہدہ آئی اے ای اے کے قوانین کے مطابق ہونا چاہئے۔ 
ہمارے بارے میں مغرب کے دوہرے معیار کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ایٹمی عدم پھیلائو کے جس معاہدے پر دستخط کرنا اور عملدرآمد کرنا خود امریکہ نے ضروری نہیں سمجھا اور بھارت اور اسرائیل کو بھی اس معاہدے کی روح کے منافی ایٹمی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے‘ اب پاکستان کی ضرورت کے تحت پرامن مقاصد کیلئے چین نے اسکے ساتھ ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا ہے تو امریکہ‘ برطانیہ‘ بھارت اور یورپی یونین کو بڑی شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ پاکستان چین ایٹمی تعاون کا معاہدہ آئی اے ای اے کے قوانین کے مطابق ہونا چاہئے۔ گزشتہ روز برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بھی اسلام آباد میں صدر زرداری اور اپنے ہم منصب وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران پاکستان کو یہی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ چین سے ایٹمی تعاون کے بارے میں پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔ پاکستان آکر انہیں بخوبی اندازہ بھی ہو چکا ہو گا کہ پاکستان توانائی کے کتنے سنگین بحران سے دوچار ہے کہ اس بحران کے انہیں خود بھی گزشتہ روز اس وقت نتائج بھگتنا پڑے جب وہ وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات کیلئے ان کے آفس جا رہے تھے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہو گئی اور انہیں لفٹ کے بجائے سیڑھیاں چڑھ کر چوتھے فلور پر جانا پڑا۔ اسکے باوجود انہیں پاکستان چین ایٹمی تعاون کا معاہدہ عالمی قوانین کے منافی نظر آیا حالانکہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد پاکستان میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے چین کی معاونت حاصل کرنا ہے جو سول ایٹمی ٹیکنالوجی میں خاصی پیش رفت کر چکا ہے۔ 
دو سال قبل جب امریکہ نے بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دے کر اسکے ساتھ ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا‘ پاکستان چین معاہدے کے مخالفین کو اس وقت تو یہ یاد نہ آیا کہ یہ معاہدہ ایٹمی عدم پھیلائو کے عالمی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں‘ نہ کسی نے بھارت پر دبائو ڈالا‘ نہ امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے سے باز رہے کیونکہ اس سے خطہ میں طاقت کا توازن مزید خراب ہو سکتا ہے اور عالمی امن کو مزید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جبکہ امریکہ اس معاہدے کی بنیاد پر اب تک بھارت کو جدید ایٹمی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس کر چکا ہے۔ بھارت نے امریکہ سے ہی نہیں‘ فرانس‘ برطانیہ‘ کینیڈا اور اسرائیل تک سے ہر قسم کا ایٹمی تعاون حاصل کیا ہوا ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ نہ صرف ہم سے چار گنا زیادہ دفاعی صلاحیت حاصل کر چکا ہے بلکہ طاقت کے نشہ میں چور ہو کر وہ چین کو بھی آنکھیں دکھا رہا ہے۔ شاید وہ ہماچل پردیش میں چین سے ہونیوالی شکست فاش کا اب اس سے بدلہ لینا چاہتا ہے جبکہ ہمیں تو اس نے شروع دن سے ہی ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور وہ ہماری سالمیت کیخلاف ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ اس خبث باطن کی بنیاد پر ہی بھارت کے سابق آرمی چیف دیپک کپور نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل بڑ ماری تھی کہ بھارت اپنی دفاعی صلاحیتوں کے باعث پاکستان اور چین کے دارالحکومتوں کو 96 گھنٹے کے اندر بیک وقت مفلوج کر سکتا ہے۔ 
جب بھارت کھلم کھلا اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کر رہا ہو تو پھر اپنے دفاع کیلئے چین اور پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ ایٹمی تعاون کرنے کا کیوں حق نہیں پہنچتا‘ یقیناً انہی حقائق کی بنیاد پر چین کو بھی اس خطہ میں ہماری سٹریٹجک اہمیت کا زیادہ احساس ہوا جو پاکستان چین کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کا باعث بنا ہے۔ چین بلاشبہ پہلے بھی ہر فیلڈ میں ہمارے ساتھ بے لوث تعاون کرتا رہا ہے اور کسی بھی مشکل وقت میں اس نے ہمیں تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا اور اسی بنیاد پر پاک چین دوستی کی دنیا میں مثال پیش کی جاتی ہے جو ہمالیہ سے بھی بلند اور شہد سے بھی میٹھی ہے جبکہ اب امریکہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے باعث خطہ میں بگڑتے ہوئے طاقت کے توازن نے اپنی اپنی سلامتی کے نقطۂ نظر کے تحت پاکستان اور چین کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے‘ یقیناً اسی تناظر میں پاکستان اور چین کے مابین ایٹمی تعاون کا ایسا ہی معاہدہ روبہ عمل ہوا جیسا امریکہ اور بھارت نے ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اگر مغربی دنیا اور یورپی یونین امریکہ بھارت معاہدے کو نظرانداز کرتے ہوئے اسی نوعیت کے پاکستان چین معاہدے پر برافروختہ ہو رہی ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئی اے ای اے‘ این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی جیسے ایٹمی عدم پھیلائو کے عالمی معاہدے کس کے گرد شکنجہ کسنے کیلئے طے ہوئے ہیں۔ اگر یہ عالمی قوانین وضع کرنے والے ہی خود کو ان کے پابند نہیں سمجھتے تو پھر پاکستان اور چین کو ان قوانین کی پابندی پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے‘ اس لئے چین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی میٹنگ میں پاکستان چین ایٹمی معاہدہ کے تحت پاکستان میں نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان کرکے انتہائی جرأت‘ دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے جس سے ہماری سلامتی کیخلاف بری نیت رکھنے والے ہمارے مکار دشمن بھارت کے ہوش بھی ٹھکانے آجائیں گے اور اسکے سرپرست امریکہ کو بھی کان ہو جائیں گے۔ پاکستان کو بھی اب ایسی ہی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھل کر چین کے ساتھ آجانا چاہئے اور امریکی مفادات کی جنگ سے اپنا دامن چھڑا لینا چاہئے جس نے سوائے تباہی کے ہمیں اور کچھ نہیں دیا
Original Link - Download as PDF

No comments:

Post a Comment